ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / تنقیدپرکوئی قدم اٹھایاجائے تواظہارِرائے کی آزادی کی شکایت ہوتی ہے، جسٹس بوبڑے نے کہا،سوشل میڈیا پر ججوں پر تنقید توہین کا معاملہ

تنقیدپرکوئی قدم اٹھایاجائے تواظہارِرائے کی آزادی کی شکایت ہوتی ہے، جسٹس بوبڑے نے کہا،سوشل میڈیا پر ججوں پر تنقید توہین کا معاملہ

Sun, 03 Nov 2019 22:51:55    S.O. News Service

نئی دہلی،03/نومبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) سپریم کورٹ کے آنے والے چیف جسٹس ایس اے بوبڑے نے فیصلہ سنائے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر ججوں کی تنقیدکوتوہین کا معاملہ بتایاہے۔انہوں نے کہاہے کہ جب ججوں کو ہراساں دیکھتا ہوں تو مجھے اچھا محسوس نہیں ہوتاہے۔مجھے لگتاہے کہ ان تنقیدوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور یہ توہین کا معاملہ بنتاہے۔ جسٹس بوبڑے 18 نومبر کو سپریم کورٹ کے 47 ویں چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالیں گے۔جسٹس بوبڑے نے کہاہے کہ ججوں پر تنقید سے کورٹ کی کارکردگی متاثرہوسکتی ہے۔میں جب ججوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ ہراساں محسوس کر رہے ہیں، تو ایسے میں مجھے پریشانی ہوتی ہے۔کوئی بھی پسندنہیں کرے گا۔ جج بھی ایک عام انسان ہوتے ہیں۔اس قسم کی تنقید سے نہ صرف تنازعہ پیدا کیا جاتا ہے، بلکہ ججوں کی ساکھ بھی متاثرہوتی ہے۔جسٹس بوبڑے نے کہاہے کہ سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کو روکنے کے لیے سپریم کورٹ کچھ نہیں کرسکتاہے۔ انہوں نے کہاہے کہ کورٹ بھی نہیں جانتا کہ سوشل میڈیا پر تنقید کے خلاف کیا قدم اٹھایا جا سکتا ہے۔اگرایسا کوئی کوئی قدم اٹھایا جاتا ہے توشکایت کی جاتی ہے کہ ملک میں اظہار رائے کی آزادی نہیں ہے۔جسٹس بوبڑے نے کہا کہ کسی بھی عدالتی نظام کی ترجیح یہ ہے کہ انصاف وقت پر دیا جائے۔اس کی وجہ سے ہی عدالتوں کا وجودہے۔ انصاف دینے میں غیرمناسب طریقے سے تاخیریاجلدی نہیں کی جا سکتی۔انصاف میں تاخیرسے جرائم بڑھنے اورقانون متاثر ہونے کا خدشہ برقرار رہتا ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ حکومت عدلیہ کی ضروریات کے لیے ہے اور مرکز، ریاستی حکومت اس کے لیے مناسب انتظامات کررہی ہیں۔


Share: